اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، اسرائیلی بائیکاٹ کی تحریک” “BDS کا مفہوم ہے بائیکاٹ، سرمایہ کاری سے امتناع ،اور پابندیوں کانفاذ جسکا انگریزی فل فام ( Boycott، Divestment، Sanctions»،) ہے ۔
یہ تحریک ۲۰۰۵ء میں ۱۷۱ غیر حکومتی فلسطینی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی ، اس تحریک کا مقصد صہیونی حکومت کے اوپر اقتصادی دباو بنا کر اسے اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو چھوڑ دے اور فلسطینیوں کے واپسی کے حق کو قبول کر لے ۔
صہیونی حکومت نے اس تحریک سے مقابلہ کے لئے گزشتہ ہفتے تین ملین “شِقل جدید[۲]” کی رقم مخصوص کی ، یہ بجٹ اس لئے معین کیا گیا ہے کہ شاید اس کے ذریعہ بین الاقوامی ایسے وکلیوں کے نیٹ ورک کو تیار کیا جاسکے جو” “BDS کے تخریبی اثرات کو روکنے میں کامیاب ہو سکیں ،اور ایسے قانونی اداروں کی حمایت حاصل کی جائے جو اسرائیل کے اوپر اس تحریک کے اثرات کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں ۔
“قدس نٹ وبگاہ “نے اپنی ایک رپورٹ میں اسی موضوع کو چھیڑا ہے ، “عمر البرغوثی ” جو اس تحریک کے بانیان میں سے ہیں اس بارے میں کہتے ہیں کہ ، صیہونی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے بائکاٹ کے سلسلہ سے وجود میں آنے والی تحریک کے خلاف تین ملین کا بجٹ مخصوص کرنا اس بات کا بیان گر ہے کہ یہ حکومت اس تحریک سے خائف ہے، اور مختلف بشمول کورٹ کچہری اطلاعاتی ، اور سیاسی نیز پرویگنڈے ، جیسے اقدامات کے ذریعہ اسکی کوشش ہے کہ اس تحریک کو آگے بڑھنے سے روکا جائے تاکہ اسرائیل کے بائیکاٹ کا ناکام بنایا جا سکے ۔
“البرغوثی ” نے مزید کہا کہ صہیونی حکومت کی یہ کوشش لاحاصل اور ان کوششوں میں ایک ہے جنکی کامیابی کی امید نہیں ہے ، صہیونی حکومت امریکا اور یورپ میں اپنی لابیوں کے بل پر ایسے اقدامات کر رہی ہے جسکے ذریعہ اسرائیلی بائیکات کے بڑھتے اثرات کو روکا جا سکے ، اور اس لئے کہ اس کی تاثیر روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔
اسی سلسلہ سے فاروڈ میگزین The Forward نے سال گزشتہ اکتوبر ۲۰۱۸ ء میں اس بات کا اعلان کیا کہ صہیونی حکومت کی ایک خفیہ ایجنسی جس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرنپ کے حق میں انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے کی تجویز دی تھی اور امریکی صدر کے حق میں فضا بنائی تھی ،اسی ایجنسی نے اسرائیلی بائیکاٹ کے لئے بھی ایک تجویز پیش کی ہے ۔
فارورڈ The Forward کی رپورٹ میں آیا ہے کہ سکیورٹی سے متعلق ایک نجی خفیہ ایجنسی ، “سای گروپ ” نے ۲۰۱۵ ء کے اواخر میں ایک یہودی گروپ کو یہ تجویزدی تھی کہ بہت ہی خاموشی کے ساتھ اسرائیلی بائیکاٹ کی تحریک کو نیچے کھینچ ڈالا جائے ، “سا گروپ” نے کہا تھا کہ اسکا ارادہ ہے کہ ایسے افراد یا ایسے معین شدہ ادارے جو بی ڈی ایس تحریک سے جڑے ہوئے ہیں اور اس اسرائیلی بائکاٹ کی تحریک سے رابطہ میں ہیں انہیں نقصان پہنچائے یا پھر کچھ ایسی تمہیدات فراہم کی جائیں جنکے بل پر ” “BDS تحریک سے وابستہ سرکاری اہلکاروں سے تفتیش کی جائے اور ان سے بازپرس ہو سکے ۔
تل ابیب کے نزدیک “BDS تحریک ایک اسٹریٹجک خطرہ ہے
اس رپورٹ میں آگے چل کر یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ۲۰۱۵ ء میں دائیں بازو کی قدامت پسند افراطی حکومت مقبوضہ فلسطین میں قائم ہوئی ، اس حکومت نے “BDS تحریک کو اپنے لئے اول درجہ کا اسٹراٹیجک خطرہ قرار دیا ہے ،” گلعاد آیرن ” اسٹراٹیجکل امور کے وزیر نے اس بارے میں کہا کہ اسرائیل اب دفاعی مرحلہ سے ہجومی مرحلہ میں وارد ہو رہا ہے اور اس تحریک سے مقابلہ کے لئے اب دفاعی حکمت عملی کی جگہ حملے کی حکمت عملی کو اختیار کرے گا ۔ البرغوثی نے اس سلسلہ میں مزید اضافہ کیا کہ صہیونی حکومت یہ گمان کرتی ہے کہ اس تحریک کے خلاف اس کے اقدامات موثر رہے ہیں اور اسے کامیابی نصیب ہوئی ہے ، اور یہ اسلئے ہے کہ اس تحریک سے مقابلہ کے لئے اپنے بھاری بجٹ کی فراہمی کو صحیح ٹہرایا جائے ،لیکن جو زمینی حقیقت ہے وہ اس کے بالکل بر عکس ہے ۔
“BDS تحریک روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور مضبوط ہو رہی ہے ، مثال کے طور پر ہزاروں صاحبان ہنر و فنکار اس بات کے لئے حاضر نہیں ہوئے کہ اپنے ہنر و فن کا تل ابیب میں مظاہرہ کریں ، اور بہت سی بڑی کمپنیوں نے اسرائیل میں اپنے کام سے ہاتھ کھینچ لیا ہے ، اس تحریک کو ناکام بنانے اور اسے کمزور کرنے کے لئے صہیونی حکومت کی شکست نے اس حکومت کو ناامیدی کے ساتھ نفسیاتی جنگ کی طرف ڈھکیل دیا ہے اور اب قانونی اور اطلاعاتی جنگ کے ساتھ صہیونی حکومت نفسیاتی جنگ کے محاذ پر بھی اس سے مقابلہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت نے بے چینی اور ناامیدی کے ساتھ اس تحریک سے نمٹنے کے لئے قانونی خندق میں چھلانگ لگا دی ، لیکن نتائج الٹے ہی دیکھنے کو ملے صہیونی حکومت کے یہ اقدامات اس بات کا سبب بنے کہ اس تحریک سے لوگوں کا بڑا حصہ آشنا و واقف ہو اور بین الاقوامی عوامی تنظیمیں ، مقامی کونسلیں اور سیاسی جماعتیں اسے رسمی حیثیت بخشتے ہوئے ،اسے قانونی جانیں ۔
“البرغوثی “نے صراحت کے ساتھ بیان کیا کہ صہیونی حکومت ، سرکوب و طاقت کے بل پر دبانے کی روش اختیار کرنے ، اور جبری طور پر جو آزادی بیان کو محبوس کرنے والے قوانین کے نفاذ کی بنا پر مغرب میں اپنے لبرل طرز تفکر رکھنے والے حامیوں کو بھی کھو رہی ہے ، مثال کے طور پر یورپی یونین اظہار بیان کی آزادی کے دفاع کی بنیاد پر تل ابیب پر پابندیوں کے حق کو اپنے لئے محفوط جانتی ہے ، سویڈن، آئرلینڈ، ہالینڈ، کی حکومتوں اسپین اور سوئٹزرلینڈ ، کی پارلیمنٹس اسی طرح انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کی بنیاد پر اسی موقف کی حامل ہیں ، یعنی اگر اسرائیلی حکومت اظہار آزادی بیان کو محدود کرتی ہے یا اسے روکتی ہے تو ان ممالک اور انسانی حقوق کی تنظمیوں نیز یورپی یونین کو حق حاصل ہے کہ اس پر پابندی عائد کریں تاکہ اظہار آزادی بیان کی راہ میں رکاوٹ کو دور کیا جا سکے ۔
“BDS تحریک حالیہ صہیونی حکومت کے فیصلہ کا کیسے مقابلہ کرے گی ؟
عمر البرغوثی نے صہیونی حکومت کی جانب سے “BDS تحریک سے مقابلہ کے لئے ۳ملین شکل کا بجٹ مخصوص کرنے کے فیصلہ کے سلسلہ سے کہا اس تحریک کی اسٹراٹیجی حملے اور ہجوم پر مبتنی ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہ تحریک اپنی اقتصادی و معاشی تکنیکی، تعلیمی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو بڑھا رہی ہے تاکہ اسرائیل کے اپارتھائیڈ[۳] اور استعماری نظام اور اسکے جرم و جنایت میں شریک ساتھیوں کو الگ تھلگ کیا جا سکے ، البتہ اسی کے ساتھ تحریک کی کوشش یے کہ ایسے وسائل فراہم کئے جا سکیں جنکے پیش نظر تحریک سے وابستہ عالمی نیٹ ورک میں سر گرم کارکنوں کے قانونی دفاع کو بہتر بنانے کے ساتھ ان میں اضافہ کیا جا سکے ۔
“عمر البرغوثی “نے مزید کہا کہ یہ تحریک مختلف ممالک میں اپنے حلیفوں کے ساتھ اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ ان ممالک کی تل ابیب کی جانب سے قانون شکنی کو برملا کرے یعنی تل ابیب نے ان ممالک کے قوانین کو اپنے مفادات کی خاطر جہاں پیروں تلے روندا ہو ان مقامات کی نشاندہی کی جاسکے ، چونکہ تل ابیب ، تحریک کے حامی مختلف ممالک کے باشندوں کی جاسوسی کے ذریعہ ان پر قانونی کاروائی کرتا ہے ،اور انہیں قانونی لڑائی میں کھینچ لاتا ہے ، اس تحریک سے مقابلہ کے لئے صہیونی مد مقابل کے درمیان فکری طور پر اختلاف کی خلیج ، اس جنگ کے لئے معتد بہ زبردست رقم کا خرچ کیا جانا ، اور خفیہ ایجنسیز و اطلاعاتی مشینری سے تحریک سے مقابلہ کے لئے استفادہ یہ تمام وہ چیزیں ہیں جو اس حکومت کی مایوسی کے لیول کو بیان کرتی ہیں ۔
“حنا عیسی ” قانونی امور پر مہارت رکھنے والی ایک فرد نے اس سلسلہ میں یہ کہا ہے کہ صہیونی حکومت سے مقابلہ کی راہ ، اپنی فعالیت کو بڑھانے اور مختلف ممالک کے تعلیمی سسٹم میں فوکس کرنے میں نہاں ہے ، صہیونی حکومت کے بائیکاٹ کے لئے ضروری ہے کہ مختلف یونیورسٹیوں خاص کر امریکی یونیورسٹیوں کو اس تحریک سے جڑنے کی دعوت دی جائے اور ان سے مطالبہ کیا جائے کہ اسرائیلی یونیورسٹیز کا بائیکاٹ کریں اور یہ کام خود یونیورسٹیاں اپنے دم پر انجام دیں ۔
انہوںنے کہا کہ حال ہی میں بعض امریکن صوبوں میں ایک ایسا بند یا پیراگراف جو قانونی بند و پیراگراف سے مشابہہ ہے تیار کیا گیا ہے جس کے بموجب صہیونی حکومت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے ، مثلا اساتید سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر پابندی نہ لگائے جانے والے قانونی مادہ یا بند پر دستخط کریں ، عیسی نے مزید کہا کہ ہمیں تعلیمی مراکز کو شوق دلانا ہوگا کہ اپنے وسائل و امکانات کو فلسطینی مفادات کی راہ میں استعمال کریں اور فلسطینی قوم کے سلسلہ سے اسرائیلی کی جانب سے مسلسل ہونے والی یلغار اور اسکی جانب سے بے دفاع قوم کے ساتھ زیادتی کو دنیا کے سامنے لائیں ۔
صہیونی شہروں سے بیرونی سرمائے کو واپس لینا
“نصر عطیانی ” اقتصادی امور کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ صہیونی شہروں کی آبادکاری پروجیکٹ سے بیرونی سرمایہ کو اگر کھینچ لیا جائے تو یہ چیز صہیونی حکومت کے لئے ۶ سے سات ارب سالانہ کا خسارہ کھڑا کر دےگی ، بلکہ یہ خطیررقم مزید بڑھے گی اس لئے کہ صہیونی حکومت اس بات کی پابند ہے کہ اس سلسلہ میں ہونےوالے نقصان کی بھرپائی کرے تاکہ ان شہروں کے بنیادی طوروجود کو باقی رکھا جا سکے اور انکی بقا ہی خطرہ میں نہ پڑ جائے ، تاکہ آئندہ انکی آباد کاری کو یقینی بنایا جا سکے صہیونی شہر وں کی تعمیر اور انکی آباد کاری کے منصوبے سے سرمایہ کو کھینچ لینا صہیونی حکومت کے اوپر تو چوٹ ہے ہی فلسطین کے اقتصاد کے لئے بھی ایک بہترین فرصت اور موقع ہوگا کہ وہ اپنے وجود اور اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرے اور بیرونی بازار میں اپنی برآمد و ایکسپورٹ کو بڑھائے ۔
اس تحریک کی کامیابی کے کچھ نمونے:
گزشتہ سال مارچ میں، ہالی ووڈ کی ممتاز و جانی مانی ادکارہ نا تاللی پورٹمین Natalie Portman [4] کو ایک اعزازی ایوارڈ حاصل کرنے کے لئے مقبوضہ فلسطین جانا تھا لیکن اس اداکار نے اعلان کیا کہ وہ صہیونی حکومت کا بائیکاٹ کا حصہ بنے گی اور پھر مقبوضہ فلسطین کا سفر نہیں کیا [۵].
ایڈیڈاس(Adidas) کمپنی[۶] نے اگست میں صیہونی اسپانسر شپ کو چھوڑ دیا؛ اس وقت پابندیوں کے سلسلہ سے سرگرم عمل تحریک نے اعلان کیا کہ فلسطینیوں کے دباو اور وسیع پیمانے پر ایڈیڈاس (Adidas) اسپورٹ کمپنی کے صہیونی حکومت کے اسپانسر ہونے کے بارے میں فلسطینی احتجاج نے اپنا کام کر دیا اور مشہور جرمنی کمپنی نے صہیونی فیڈریشن کے اسپانسر ہونے سے اپنی دست برداری کا اعلان کر دیا
اسی طرح گزشتہ سال جون میں ارجنٹائنا اور اسرائیل کے درمیان دوستانہ میچ بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں منسوخ ہو گیا۔
بائیکاٹ کی تحریک کو اس قدر کامیابی ملی کہ تاکہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ “نکی ہیلی” کی آواز بھی نکل گئی ( فی الحال عہدے سے مستعفی ) نیکی ہیلی نے . ” جولائی میں” اسرائیل کے لئے عیسائیوں کے متحدہ محاذ” نامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف سرگرم عمل تحریک (بی ڈی ایس) سے مقابلہ کا مطالبہ کیا ، ہیلی نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ صہیونی حکومت کو دوستوں اور متحدین کی ضرورت ہے ، کہا” ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں کہ یہودیت کے خلاف لوگوں کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے …اور بعض ممالک بالکل واضح طور پر اسرائیل کو صفحہ ہستی سے محو کردینے کے درپے ہیں ۔
ترجمہ و تحقیق : سید نجیب الحسن زیدی
حواشی :
۱۔https://www.farsnews.com/news/13971011000952/%D8%A8%DB%8C%E2%80%8C%D8%AF%DB%8C%E2%80%8۔ D8%A7%D8%B3-%D9%85%D9%88%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%AA%E2%80%8C%D9%87%D8%A7%DB%8C-%D9%85%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D9%88-%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B4%E2%80%8C%D9%87%D8%A7%DB%8C-%D9%86%D8%A7%DA%A9%D8%A7%D9%85-%D8%AA%D9%84%E2%80%8C%D8%A2%D9%88%DB%8C%D9%88-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D9%82%D9%81-%D8%A2%D9%86
[۲] ۔ شیقل جدید (انگریزی: Israeli new shekel) (عبرانی: שֶׁקֶל חָדָשׁ اسرائیلی کرنسی جسے اسرائیلی شیقل بھی کہا جاتا ہے یہ ایسی کرنسی ہے جو فلسطینی علاقہ جات یعنی مغربی کنارہ اور غزہ پٹی میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
[۳] ۔ اپار تھائیڈ نسل و قومیت کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے والا ایسانظام جو جنوبی افریقا میں قائم ایسا سیاسی نظام جو بیسویں صدی میں نافذ ہوا اور ۱۹۴۰ء سے ۱۹۸۰ء تک چلتا رہا ۔ اس نظام میں، جنوبی افریقہ کے لوگوں کو نسلی اعتبار سے تقسیم کیا گیا۔ اگرچہ سیاہ فام لوگ ملک میں زیادہ تھے لیکن اس کے باوجود سفید فام لوگوں کی کم تر تعداد نے ان پر حکمرانی قائم کی۔ یہ نسل پرست نظام ۱۹۹۴ء میں جنوبی افریقہ سے ختم کر دیا گیا۔لیکن اسرائیل میں ابھی تک قائم ہے ۔
[۴] ۔ نیٹالی پورٹمین Natalie Portman (عبرانی: נָטַלִי הֶרְשְלַג) ہاوروڈ یونیورسٹی سے فاضل نفسیات ، ریاستہائے متحدہ امریکا کی ایک فلمی اداکارہ جس کو اسرائیلی شہریت حاصل ہے جس نے گولڈن گلوپ و آسکر جیسے فلمی دنیا کے معتبر ایوارڈ اپنے نام کئے ۔نظریاتی طور پر اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی شدید مخالف کے طور پر پوٹمن کو شہرت حاصل ہے
[۵] ۔ “Natalie Portman refuses to visit Israel to accept prize, citing ‘recent events'”. The Times of Israel. April 20, 2018. Retrieved April 20, 2018.
[۶] ۔ کھیلوں کے مصنوعات بنانے والی ایک جرمنی کمپنی یا ایک کثیر القومی کارپوریشن جو ایڈیڈاس (Adidas) کے نام سے مشہور ہے جرمن تلفظ: [ˈadiˌdas]) جس کا صدر دفتر ہرتسوگن آوراخ، جرمنی میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲